بِسمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِيم

23-October-2019

فخر اور حارث کو کہا تھا دائیں ہاتھ سے کھیلو۔ مصباح الحق

Tariq Avatar
51 Views 0 2 ہفتے
Posted at 10 اکتوبر-2019

پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق کا کہنا ہے کہ قومی ٹیم ٹی ٹونٹی میں نمبر ون تھی شاید ان کی دس دن کی کوچنگ نے ٹیم کو اتنا خراب کیا ہے کہ وہ سری لنکا سے ہار گئی وہ بھی تین صفر سے۔

قذافی اسٹیڈیم لاہور میں تاریخ میں پہلی بار سری لنکا کے خلاف تین ٹی ٹونٹی میچز کی سیریز وائٹ واش ہارنے کے لیئے ہیڈ کوچ مصباح الحق اور کپتان سرفراز احمد پریس کانفرنس کرنے ائے۔ جیسے انہوں نے صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیئے، بظاہر لگا کہ وہ پہلے سے ہی موڑ بنا کر آئے تھے مگر جو باڈی لینگوئج پریس کانفرنس میں تھی ویسی سری لنکا کے خلاف ہوتی تو شاید آج جیت کا سہرا پاکستان کے سر سجتا۔

مصباح الحق نے کہا کہ بطور ہیڈ کوچ انہوں نے فخر زمان اور حارث سہیل کو کہا تھا کہ اب بائیں ہاتھ سے نہیں دائیں ہاتھ سے بلے بازی کرنی ہے، وہاب ریاض اور محمد عامر کو بھی سکھیایا تھا کہ دائیں بازو سے باولنگ کریں۔ شاید انہی ٹپ کی وجہ سے پاکستان ہار گیا۔ مصباح کی اس بات پر پریس کانفرنس میں قہقہ لگا۔

اس لنک میں اس خبر کے مطابق ویڈیو موجود ہے

صحافی نے سوال پوچھا کہ اچانک کیا ہو گیا ٹیم کو، مصباح الحق نے کہا کہ پریس کانفرنس ختم ہونے کا انتظار کر رہے ہیں وہ بھی یہی سوال اپنی ٹیم سے پوچھے گے۔

سرفراز نے صحافی کو کہا غصہ نہ کرو بھائی

کپتان سرفراز احمد بھی کوچ کو دیکھ کر فرنٹ فٹ پر کھیلے۔ صحافی نے سوال پوچھا کہ کتنے میچ چاہیے خود کو بلے باز ثابت کرنے کے لیئے۔ سرفراز احمد نے کہا کہ اپنا کیمرہ آن کرو اور اچھی طرح ریکارڈ کر لو۔ صحافی نے کہا کہ میں اچھا ریکارڈ کرتا ہوں آپ بولو۔ سرفراز نے جواب دیا یہ تو آپ غصہ کر گئے ہو۔

قومی کپتان نے کہا کہ وہ مانتے ہیں کہ ایک کیچ ڈراپ کیا مگر کیا اس سری لنکن بلے باز نے بڑا سکور کیا تھا۔ چوتھے نمبر پر خود اس لیئے آئے کہ حارث سہیل اس وقت کریز پر تھے وہ چاہتے تھے کہ سنگل لے کر حارث سہیل کو زیادہ سے زیادہ سٹرائیک دیں مگر بدقسمتی سے حارث آوٹ ہو گیا۔

عابد علی ٹیم میں ہوتا تو آپ مجھے گولی مار دیتے۔ مصباح الحق

مصباح الحق سے سوال ہوا کہ کب تک فخر زمان ٹیم کا حصہ بنے رہے گے ان کی جگہ عابد علی کو ہی موقع دے دے، مصباح الحق نے کہا اگر میں نے عابد علی کو موقع دیا ہوتا تو آج کوئی انہیں گولی مار دیتا۔

ہیڈ کوچ نے ایک لاجک اور دی جس پر شاید انہیں اب افسوس بھی ہو رہا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی بلے باز وکٹ کو سمجھ نہیں سکے اور بیشتر کھلاڑی لیگ اسپنر کو اچھا نہیں کھیلتے۔ حالانکہ تینوں میچز قذافی اسٹیڈٖیم میں کھیلے گئے نا کہ کولمبو میں۔ خیر بعد میں مصباح الحق نے بھی اعتراف کیا کہ پاکستان کو سری لنکن جونیئر کھلاڑیوں سے سیکھنا ہوگا کہ کیسے انہوں نے پاکستان جیسی مضبوط ٹیم کو ہرایا۔

متعلقہ خبریں

کپتان بابر اعظم انگلش بولنا سیکھے گے

پاکستان کرکٹ بورڈ نے بابر اعظم کو ٹی ٹونٹی کا کپتان تو مقرر کر دیا ہے مگر گورے…

2 دن

قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کی دفعہ 144 کی خلاف ورزی، مقدمہ…

فیصل آباد۔ پتنگ بازی ایک خونی کھیلہے جس پر پنجاب حکومت نے ایک دہائی سے زائد عرصہ سے…

2 دن

ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی ٹیم کا اعلان

لاہور۔ چیف سلیکٹر مصباح الحق نے دورہ آسٹریلیا کیلئے ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی سکواڈ کا اعلان کر دیا۔…

2 دن

پی سی بی نے سرفراز احمد سے متنازعہ ویڈیو پر معافی مانگ…

پاکستان کرکٹ بورڈ نے سرفراز احمد سے ایک ویڈیو لگانے پر معافی مانگ لی۔ بورڈ نے اپنی ویب…

5 دن

تازہ ترین

مہاتیر محمد کشمیریوں کی حمایت میں ڈٹ گئے

کوالالمپور۔ ملائیشیا کے مرد آہن مہاتیر محمد نے ہندو بزنس مینوں کی جانب سے اربوں ڈالر مالیت کے…

57 منٹ

صارفین پرپھر 2 روپے 97 پیسے فی یونٹ اضافی بجلی بوجھ ڈالنے…

اسلام آباد۔ آئی ایم ایف کا دباؤ یامالی بوجھ سے چھٹکارا پانے کی تدبیریں۔ وفاقی حکومت نے ایک…

2 گھنٹے

نواز شریف کی طبعیت سنبھلنے لگی

نواز شریف کی پلیٹیلیٹس کی تعداد 2 ہزار سے بڑھ کر 20 ہزار تک پہنچ گئی ہے ۔…

11 گھنٹے

جتنی بڑی کرپشن ، اتنی تنگ جیل

وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کہتے ہیں جو 5 کروڑ سے زائد کی کرپشن کرے گا اسے جیل…

11 گھنٹے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے