بِسمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِيم

24-May-2019

ہم اس وقت میو ہسپتال کی ایمرجنسی میں موجود ہیں

210 Views 1 2 ہفتے
Posted at 9 مئی-2019

تحریر۔ کرن ضیا خان

جی اس وقت ہم میو ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں پہنچ چکے ہیں جہاں پر زخمیوں کو لایا جارہا ہے اور ڈاکٹرز ان کا علاج کر رہے ہیں۔اب مانے یا نہ مانے یہ الفاظ کہنے کے بعد پاکستان کے صدارتی ایوارڈ یافتہ رپورٹر امین حفیظ زخمی کانسٹیبل کے علاج میں مصروف ڈاکٹر کا انٹرویو شروع کردیتے ہیں

تعجب کی بات تو یہ ہے کہ ڈاکٹر بھی اپنا کام چھوڑ کے انٹرویو دینا شروع کر دیتا ہے۔
تصویر کو غور سے دیکھیں زخمی کانسٹیبل اسٹریچر پر لیٹا اپنا سر اٹھا کے رپورٹر کی طرف دیکھ رہا ہے

پاکستان کی صحافت میں اخلاقیات کتابوں میں تو ہے مگر عملی طور پر کم ہی نظر آتی ہے۔ ایسا ہو بھی کیوں نہ جب سرکار کی طرف سے بھی ایسے ہی رپورٹر کو صدارتی ایوارڈ بھی دیا جاتا ہے تو پھر نوجوان صحافی بھی تو انہی کی پیروی کریں گے۔

جیو نیوز سے منسلک یہی رپورٹر چند عرصہ پہلے ایک رپورٹ میں بھینسوں کا انٹرویو کرتے نظر آئے جسکی ویڈیو کو لے کر بھارتی میڈیا نے پاکستانی صحافت کا خوب مذاق اڑایا

ایک اور دلچسپ واقع یہ کہ میو ہسپتال میں زخمیوں کی عیادت کرنے آئے گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور سے انہیں رپورٹر نے ایک سوال پوچھا جس پر بیشتر صحافی حیران رہ گئے۔
سوال تھا کہ پہلے تو دہشت گرد چھوٹے بچوں سے خودکش حملے کراتے تھے مگر داتا دربار پر تو ہٹا کٹا خودکش حملہ آور بھیجا ہے۔

پاکستان میں صحافت کے ساتھ کھلواڑ بہت بار ہو چکا ہے۔
ریٹنگ کے نام پر صحافیوں کو بہت پاپڑ بیلتے دیکھا ہے کبھی قبر پر لیٹ کر رپوٹنگ کی گئی تو کبھی گندے پانی میں ڈوب کر اور کبھی توبہ توبہ کر کے۔ مگر سوال یہ کہ جہاں بات انسانی جان کی ہوں وہاں ایسی حرکت قابل برداشت ہو سکتی ہے کیا

متعلقہ خبریں

رواں ہفتے کے آخر میں مزید گرمی کی…

کراچی۔ شہر قائد کراچی میں محکمہ موسمیات نے ایک مرتبہ پھر ہیٹ الرٹ جاری کر دیا ہے۔ رواں…

14 گھنٹے
رواں ہفتے کے آخر میں مزید گرمی کی پیش گوئی

سکھ فار جسٹس تنظیم کی دہائی

نیویارک۔ پرانی کہاوت ہے انسان آج جو بوتا ہے کل اسی کی فصل کاٹتا ہے۔ بھارت نے پاکستان…

16 گھنٹے
سکھ فار جسٹس تنظیم کی دہائ

اسلام آباد کے 53 فیصد نوجوان نشے کے…

سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسداد منشیات کی ذیلی کمیٹی کا دعوی ہے کہ اسلام آباد میں 53…

1 دن

عاشق نے لڑکی کے کہنے پر گردہ بیچ…

محبت میں دل تو بہت دیتے ہیں مگر کامونکی کے رہائشی ہمایوں نے اپنی محبت ثابت کرنے کے…

1 دن

تبصرے

ejaz wasim bakhri

مئی 09, 2019

دراصل ہماری آج کل کی صحافت کا یہی معیار بن گیا ہے، جب سے ٹی وی آئے ہیں تو پروفیشنل ٹی وی صحافی نہ ہونے اور ان کی تربیت نہ ہونے کی وجہ سے ایسے بھانڈ اپنے سودا بیچنے میں کامیاب رہتے ہیں۔

جواب دیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے