بِسمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِيم

18-July-2019

ہم اس وقت میو ہسپتال کی ایمرجنسی میں موجود ہیں

425 Views 1 2 مہینے
Posted at 9 مئی-2019

تحریر۔ کرن ضیا خان

جی اس وقت ہم میو ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں پہنچ چکے ہیں جہاں پر زخمیوں کو لایا جارہا ہے اور ڈاکٹرز ان کا علاج کر رہے ہیں۔اب مانے یا نہ مانے یہ الفاظ کہنے کے بعد پاکستان کے صدارتی ایوارڈ یافتہ رپورٹر امین حفیظ زخمی کانسٹیبل کے علاج میں مصروف ڈاکٹر کا انٹرویو شروع کردیتے ہیں

تعجب کی بات تو یہ ہے کہ ڈاکٹر بھی اپنا کام چھوڑ کے انٹرویو دینا شروع کر دیتا ہے۔
تصویر کو غور سے دیکھیں زخمی کانسٹیبل اسٹریچر پر لیٹا اپنا سر اٹھا کے رپورٹر کی طرف دیکھ رہا ہے

پاکستان کی صحافت میں اخلاقیات کتابوں میں تو ہے مگر عملی طور پر کم ہی نظر آتی ہے۔ ایسا ہو بھی کیوں نہ جب سرکار کی طرف سے بھی ایسے ہی رپورٹر کو صدارتی ایوارڈ بھی دیا جاتا ہے تو پھر نوجوان صحافی بھی تو انہی کی پیروی کریں گے۔

جیو نیوز سے منسلک یہی رپورٹر چند عرصہ پہلے ایک رپورٹ میں بھینسوں کا انٹرویو کرتے نظر آئے جسکی ویڈیو کو لے کر بھارتی میڈیا نے پاکستانی صحافت کا خوب مذاق اڑایا

ایک اور دلچسپ واقع یہ کہ میو ہسپتال میں زخمیوں کی عیادت کرنے آئے گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور سے انہیں رپورٹر نے ایک سوال پوچھا جس پر بیشتر صحافی حیران رہ گئے۔
سوال تھا کہ پہلے تو دہشت گرد چھوٹے بچوں سے خودکش حملے کراتے تھے مگر داتا دربار پر تو ہٹا کٹا خودکش حملہ آور بھیجا ہے۔

پاکستان میں صحافت کے ساتھ کھلواڑ بہت بار ہو چکا ہے۔
ریٹنگ کے نام پر صحافیوں کو بہت پاپڑ بیلتے دیکھا ہے کبھی قبر پر لیٹ کر رپوٹنگ کی گئی تو کبھی گندے پانی میں ڈوب کر اور کبھی توبہ توبہ کر کے۔ مگر سوال یہ کہ جہاں بات انسانی جان کی ہوں وہاں ایسی حرکت قابل برداشت ہو سکتی ہے کیا

متعلقہ خبریں

جج ویڈیو اسکینڈل پر شہباز شریف اور مریم…

سابق وزیراعظم نواز شریف کو سزا دینے والے احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کی درخواست پر…

6 گھنٹے

ڈاکٹرز نے زخمی کی بجائے ٹھیک ٹانگ کا…

لاہور کے اتفاق ہسپتال میں ڈاکٹرز نے زخمی بائیں ٹانگ کے گھٹنے کی بجائے دائیں ٹانگ کا آپریشن…

9 گھنٹے

کلبھوشن یادیو کون تھا ؟

عالمی عدالت نے کلبھوشن یادیو کو دہشتگرد قرار دیدیا ۔کلبھوشن یادیو ہے کون تھا اور اسے پکڑا کیسے…

11 گھنٹے

ارے عثمان بزدار شہباز شریف پلس بن گے

برسات کا موسم ب سڑکوں پر کھڑا پانی ، عثمان بزدار کی ڈرائیونگ اور گاڑی میں اور لوڈنگ…

11 گھنٹے
عثمان بزدار کی اشیائے خوردونوش طے شدہ قیمتوں پر دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت

تبصرے

ejaz wasim bakhri

مئی 09, 2019

دراصل ہماری آج کل کی صحافت کا یہی معیار بن گیا ہے، جب سے ٹی وی آئے ہیں تو پروفیشنل ٹی وی صحافی نہ ہونے اور ان کی تربیت نہ ہونے کی وجہ سے ایسے بھانڈ اپنے سودا بیچنے میں کامیاب رہتے ہیں۔

جواب دیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے