بِسمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِيم

19-May-2019

نئے بلدیاتی نظام میں نئی چیز کیا ہے

103 Views 0 3 ہفتے
نئے بلدیاتی نظام میں نئی چیز کیا ہے
Posted at 1 مئی-2019

لاہور۔ بلدیاتی اداروں کو کسی بھی ملک میں کی ابتدائی سیاسی نرسریاں کہا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں انہی اداروں نے کئی بڑی سیاسی شخصیات کو جنم دیا جنہوں نے آگے چل کر ملک کی قیادت کی باگ دوڑ سنبھالی۔ ان میں ایک اہم اور معتبر نام موجودہ ترک صدر طیب اردگان کا بھی ہے جو استنبول کے میئر رہے۔ اسی طرح ایران کے سابق صدر احمدی نیاد بھی تہران کے میئر رہے۔ ہمارے ہاں بھی کئی شخصیات نے بلدیات کی نرسری سے پرورش پائی۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں سیاسی ادوار میں بلدیاتی اداروں کو کبھی فروغ دینے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔ البتہ آمریت کے دور میں ہر آمر نے اسے اپنے سیاسی ایجنڈے اور اقتدار کو دوام بخشنے کیلئے استعمال کیا۔ یہ عمل صدر ایوب سے لیکر جنرل مشرف تک جاری و ساری رہا۔ جنرل مشرف کے 2002ء کے بلدیاتی سسٹم میں ناظم کو بہت زیادہ اختیارات دئیے گئے۔

نئے بلدیاتی انتخابات پرانی حلقہ بندیوں کے تحت ہوں گے

اب موجودہ حکومت نے بھی اپنے اقتدار کو مضبوط بنانے کیلئے نیا بلدیاتی سسٹم لاگو کیا ہے۔ عام قارئین کیلئے یہاں یہ سوال بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ اس نئے بلدیاتی نظام میں آخر کیا نئی چیز ہے؟۔ یہاں نئے بلدیاتی آرڈیننس کے اہم نکات دئیے جا رہے ہیں۔ پنجاب لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2019ء میں ہر موضع ویلج کونسل (پنچائیت کونسل) ہو گا۔ نئی حلقہ بندی نہیں ہوں گی اور نئے بلدیاتی انتخابات پرانی حلقہ بندیوں کے تحت ہوں گے۔ دو ہزار سے کم آبادی والے موضع میں 2 ممبر ہوں گے۔ ایک خاتون اور ایک اقلیتی ممبر ہو گا۔ دو ہزار سے زیادہ اور 8 ہزار سے کم آبادی والے موضع میں 3 ممبر، 1 مرد، ایک خاتون اور ایک اقلیتی نشست ہو گی۔ 8 ہزار سے 15 ہزار آبادی والے موضع میں 4 ممبر، 1 خاتون اور ایک اقلیتی ممبر کی سیٹ ہو گی۔ 15 ہزار سے 25 ہزار آبادی والے موضع میں 5 ممبر، 1 خواتین اور ایک اقلیتی نشست ہو گی۔

دو لاکھ سے پانچ لاکھ والی تحصیل میں ایک پینل اور ایک نشان پر الیکشن لڑیں گے سب کا ایک ووٹ ہو گا

موضع کا پرائمری سکول اور سول یا ویٹرنری ڈسپنسری ویلیج کونسل کے چیئرمین کے زیر انتظام ہوں گی۔ نیبرہڈ کونسل ٹاؤن کمیٹی اور کارپوریشن میں ہو گی۔ ویلیج کونسل اور نیبرہڈ کا الیکشن آزادانہ حیثیت میں ہو گا۔ ٹاؤن، کارپوریشن اور میٹروپولیٹن کا الیکشن جماعتی بنیادوں پر ہو گا۔ 25 ہزار سے زیادہ آبادی والا شہری علاقہ ٹاؤن بن جائیگا اور 25 ہزار سے زیادہ آبادی والے موضع میں سے زیادہ ویلیج کونسل بن جائیں گی۔ دو لاکھ سے کم آبادی والی تحصیل میں 10 ممبر، 1 اقلیتی، دو خواتین اور ایک جنرل ممبر ہو گا۔ دو لاکھ سے پانچ لاکھ والی تحصیل میں 15 ممبران، 1 اقلیتی، تین خواتین اور دو جنرل ممبر ہوں گے جو کہ ایک پینل اور ایک نشان پر الیکشن لڑیں گے اور ان سب کا ایک ووٹ ہی کاسٹ ہو گا۔

تحصیل اور کارپوریشن کو فنڈز پنجاب حکومت براہ راست دے گی

ہر پارٹی اپنے اپنے پینل کی لسٹ جمع کرائے گی اور لسٹ میں تحصیل چیئرمین، سپیکر اور مخصوص نشستوں کے امیدواران کا نام دے گی۔ مثال کے طور پراگر جیتنے والا پینل 60 فیصد ووٹ لیتا ہے تو اس کی مہیا کردہ لسٹ کے پہلے 60 فیصد امیدوار جائیں گے۔ کسی بھی تحصیل ممبر کی وفات کی صورت میں دوبارہ الیکشن نہیں ہو گا بلکہ ایک نمبر نیچے والا ممبر اوپر آ جائے گا۔ تحصیل چیئرمین یا ٹاؤن چیئرمین یا میئر کارپوریشن کی وفات یا نااہلی کی صورت میں صرف اس سیٹ کا دوبارہ الیکشن ہو گا۔بلدیاتی اداروں کی مدت پانچ سال کے بجائے اب 4 سال ہو گی۔ تعلیم کی شرط ویلیج کونسل سے لے کر نیبرہڈ کونسل، ٹاؤن چیئرمین، تحصیل چیئرمین اور میئر کارپوریشن تک، کہیں بھی لاگو نہیں ہو گی۔ ویلیج کونسل، نیبرہڈ کونسل اور ٹاؤن کمیٹیوں کو فنڈز پنجاب حکومت براہ راست دے گی۔ تحصیل اور کارپوریشن کو بھی فنڈز پنجاب حکومت براہ راست دے گی۔

متعلقہ خبریں

ملک بھر میں قائم پوسٹل کے ریسٹ ہاؤس…

اسلام آباد۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد وزیراعظم ہاؤس، چاروں گورنر ہاؤسز…

1 دن
ملک بھر میں قائم پوسٹل کے ریسٹ ہاؤس عوام کیلئے کھل دئیے

قمر زمان کائرہ کے بیٹے اسامہ کی نماز…

لالہ موسٰی۔ موت ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس کا ذائقہ ہر ذی روح کو ایک دن چکھنا…

1 دن
قمر زمان کائرہ کے بیٹے اسامہ کی نماز جنازہ ادا

ایک ہزار آسٹریلین نے ایک ہی وقت میں…

نیو ساؤتھ ویلز۔ کینگروز کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ کسی بھی کام میں ہاتھ ڈال لیں۔…

1 دن
ایک ہزار آسٹریلین نے ایک ہی وقت میں ایک جگہ جمع ہو کر ریکارڈ قائم کیا

اپوزیشن کو عید کے بعد باہر نکلنے دیں…

لاہور۔ پنڈی بوائے کے نام سے مشہور وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید بڑے منجھے ہوئے اور دبنگ سیاستدان…

1 دن
اپوزیشن کو عید کے بعد باہر نکلنے دیں اوقات کا پتہ چل جائیگا۔ شیخ رشید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے