بِسمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِيم

20-September-2021

اسلام آباد ہائیکورٹ نے چینی انکوائری کمیشن کی رپورٹ پر عمل درآمد روک دیا

Iqra Khan Iqra Khan
84 Views 0 1 سال
FoodNavigator, the express tribune
Posted at 11 جون-2020

اسلام آبادہائیکورٹ نے چینی کی قیمتوں میں اضافے پر انکوائری کمیشن کی رپورٹ کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران ملک بھر میں عام آدمی کیلئے چینی 70 روپے بیچنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے چینی کی قیمتوں میں اضافے پر انکوائری کمیشن کی رپورٹ کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔

شوگر ملز ایسویس ایشن کے وکیل علی خان نے عدالت کے روبرو اپنے دلائل میں کہا کہ آئین میں وفاق اور صوبوں کے اختیارات کا الگ الگ ذکر موجود ہے، فروری میں کارروائی کیلئے ایڈہاک کمیٹی بنائی گئی۔

کمیٹی نے وفاقی حکومت کو لکھا کہ کمیشن کو قانونی تحفظ فراہم کیا جائے اس کیلئے کمیٹی کو کمیشن میں تبدیل کردیا جائے، جیسے کمیٹی نے تجویز دی تھی ویسے ہی وہ کمیشن بن گیا۔

انہوں نے ہا کہ انکوائری کمیشن نے شوگر ملز کے فرانزک آڈٹ کیلئے وفاقی حکومت کو لکھا کہ کمیشن نے 324 صفحات کی رپورٹ میں بہت زیادہ وجوہات بیان کی ہیں۔کمیشن نے اپنے ٹی او آر سے باہر جاکر کارروائی کی،معاون خصوصی اور دیگر وزرا کے ذریعے ہمارا میڈیا ٹرائل کیا جا رہا ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ چینی عام آدمی کی ضرورت ہے حکومت کو بھی اس حوالے سے ہی اقدامات اٹھانا چاہیئں، سادہ سی بات ہے کہ عام آدمی کا بنیادی حق ہے 30 فیصد چینی عام آدمی کیلئ ہوتی ہے، جس مقصد کیلئے کمیشن بنا تھا وہ ایڈریس ہی نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ کمیشن کو عام آدمی کو چینی کی سہولت فراہمی کیلئے کچھ کرنا تھا لیکن نہیں کیا، حکومت یوٹیلیٹی اسٹورز پر بھی سبسیڈیائز چینی 80 روپے کلو بیچ رہی ہے، یہاں پر مفاد عامہ کا سوال سامنے آیا ہے لیکن یہ سوال کسی نے اٹھایا ہی نہیں۔ اگر کمیشن نے عام آدمی کو چینی کی دستیابی کے حوالے سے کچھ نہیں کیا پھر کیا کیا؟۔

مخدوم علی خان نے کہا کہ نومبر 2018 میں چینی کی قیمت 53 روپے تھی، جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ 2 سال میں چینی کی قیمت53 سے 85 روپے فی کلو ہوگئی، چینی غریب آدمی کی ضرورت ہے وہ ایسے فیصلوں سے کیوں متاثر ہو رہا ہے؟

انہوں نے کہا کہ یہ چیز کمیشن کو ایڈریس کرنا چاہئے تھی، کمیشن نے عام آدمی کی سہولت کیلئے کوئی فائنڈنگ نہیں دی،چینی ایک مزدور کی ضرورت ہے اور وہ کوکا کولا پرسبسڈی دے رہے ہیں۔ عام آدمی کو بنیادی حقوق کیوں نہیں دے رہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ یہ عدالت عمومی طور پر ایگزیکٹو کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتی، ہم حکومت کو نوٹس کرکے پوچھ لیتے ہیں لیکن آپ اس وقت تک 70 روپے کلوچینی بیچیں۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آپ کو شرط منظور ہے تو ہم آئندہ سماعت تک حکومت کو کارروائی سے روک دیتے ہیں، اس حوالے سے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار بھی کیا کہ کیا وفاق عدالت کے آپشن کی مخالفت کرے گا، جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق نے کہا کہ حکومت اس کی مخالفت نہیں کریں گی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے آئندہ سماعت تک ملک بھر میں عام آدمی کے لئے چینی 70 روپے بیچنے کا حکم دیتے ہوئے شوگر ملز ایسوسی ایشن کے حق میں مشروط حکم امتناع جاری کردیا۔

متعلقہ خبریں

پلازمہ فروخت کرنیوالوں کیخلاف کارروائی کی جائے، لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائیکورٹ نے پلازمہ فروخت کرنیوالوں کیخلاف کارروائی کا حکم دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ میں کورونا مریضوں کا…

1 سال

سپریم کورٹ نے جسٹس فائز عیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس کالعدم قرار دیدیا

سپریم کورٹ نے اپنے مختصرفیصلے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس خارج کر دیا ہے۔…

1 سال

لندن میں عمران خان کی 6 اور شہزاد اکبر کی 5 جائیدادیں…

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کے خلاف درخواست میں مزید دستاویزات جمع کرا…

1 سال

بینظیربھٹو پرالزام تراشی، امریکی خاتون بلاگر پرمقدمہ درج کرنے کا حکم

عدالت نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو پر الزام تراشی کرنے والی…

1 سال

تازہ ترین

وبا کے دوران قربانی کے بارے میں احکامات

مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین اور معروف عالم دین مفتی منیب الرحمان کا کہنا ہے کہ قربانی…

1 سال

سروسز اسپتال لاہورمیں نرسز کی لڑائی میں چھریوں کے وار، متعدد زخمی

اس وقت پورا ملک کورونا وائرس کی وبا کے باعث پریشان نظر آ رہا ہے اور پوری عوام…

1 سال

یونس خان نے میرے گلے پر چاکو رکھ دیا تھا، گرانٹ فلاور…

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور نے یونس خان کے رویے کے بارے میں بڑا…

1 سال

پنجاب حکومت نے آٹے کی قیمت میں بڑی کمی کر دی

پنجاب حکومت نے آٹے کی قیمت میں کمی کر دی ہے۔ پنجاب کابینہ نے گندم کی عبوری پالیسی…

1 سال

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے