بِسمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِيم

20-September-2021

سپریم کورٹ نے جسٹس فائز عیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس کالعدم قرار دیدیا

masooma mufferih masooma mufferih
85 Views 0 1 سال
Global Village Space
Posted at 19 جون-2020

سپریم کورٹ نے اپنے مختصرفیصلے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس خارج کر دیا ہے۔

سپریم کورٹ میں 10 رکنی لارجر بینچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست پر سماعت کی. ججز نے کیس کا مختصر فیصلہ سنایا۔

سپریم کورٹ نے اپنے مختصر فیصلے میں جسٹس قاضی فائز عیسی کی ریفرنس کالعدم قرار دینے کی درخواست منظور کرلی۔

سات ججز نے قاضی فائز کی اہلیہ کے ٹیکس معاملات فیڈرل بورڈ آف ریوینو (ایف بی آر) کو بھیجنے کا حکم دیا جبکہ ایک جج جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریفرنس کیخلاف قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست ناقابل سماعت قرار دی۔ ریفرنس کاالعدم قرار دینے کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

فیصلے کے مطابق 7 جج صاحبان نے ٹیکس معاملہ ایف بی آر کو بھیجنے کا حکم دیا ہے، انکم ٹیکس کمشنر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ اور بچوں کو نوٹس جاری کرے گا، انکم ٹیکس کمشنر 60 روز میں ٹیکس معاملے سے متعلق کارروائی مکمل کرے گا۔

قبل ازیں دوران سماعت وفاق کے وکیل فروغ نسیم نے ایف بی آر کے دستاویز میں جمع کرائیں جبکہ ایف بی آر کی جانب سے بھی جسٹس قاضی کی اہلیہ کا ٹیکس ریکارڈ عدالت میں جمع کرایا گیا

فروغ نسیم کے ریکارڈ پر بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہم ابھی اس لفافے کا جائزہ نہیں لیتے اور نہ ہی اس پرکوئی آرڈر پاس کریں گے، معزز جج کی بیگم صاحبہ تمام دستاویز ریکارڈ پر لاچکی ہیں، آپ اس کی تصدیق کروائیں، ہم ابھی درخواست گزار کے وکیل منیر ملک کو سنتے ہیں۔

اس دوران جسٹس قاضی فائز کے وکیل منیر اے ملک نے بھی سر بمہر لفافے میں دستاویزات عدالت میں پیش کردیں۔ اس کے علاوہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے زرعی زمین اور پاسپورٹ کی نقول بھی جمع کرائیں۔

منیر اے ملک نے اپنے دلائل میں کہا کہ افتخار چوہدری کیس میں سپریم جوڈیشل کونسل پربدنیتی کے الزامات تھے، فروغ نسیم نے کہا ان کا اصل کیس وہ نہیں جو ریفرنس میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کبھی اہلیہ کی جائیدادیں خود سے منسوب نہیں کیں، الیکشن اور نیب قوانین میں شوہر اہلیہ کے اثاثوں پر جوابدہ ہوتا ہے۔

فروغ نسیم نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ آنے میں دیر کردی، بد قسمتی سے فروغ نسیم غلط بس میں سوار ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ایف بی آر جانے کے بجائے سپریم جوڈیشل کونسل آگئی، ایف بی آر اپنا کام کرے ہم نے کبھی رکاوٹ نہیں ڈالی، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنی اور عدلیہ کی عزت کی خاطر ریفرنس چیلنج کیا، چاہتے ہیں کہ عدلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کالعدم قرار دے۔

منیر اے ملک نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے احکامات اور شوکاز نوٹس میں فرق ہے، سپریم جوڈیشل کونسل صدر کے کنڈکٹ اور بدنیتی کا جائزہ نہیں لے سکتی، کونسل کا کام صرف حقائق کا تعین کرنا ہے۔

جسٹس قاضی کے وکیل نے کہا کہ وزیر اعظم کوکوئی نیا ادارہ یا ایجنسی بنانے کا اختیار نہیں، اثاثہ جات ریکوری یونٹ کی تشکیل کیلئے رولز میں ترمیم ضروری تھی، اثاثہ جات ریکوری یونٹ کے ٹی او آرز قانون کیخلاف ہیں، باضابطہ قانون سازی کے بغیر اثاثہ جات ریکوری یونٹ جیسا ادارہ نہیں بنایا جاسکتا۔

حکومت صرف فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ لکھنے والے جج کو ہٹانا چاہتی ہے، منیر ملک
منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ جو ریلیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو چاہیے وہ جوڈیشل کونسل نہیں دے سکتی، لندن جائیدادوں کی تلاش کے لیے ویب سائٹ کو استعمال کیا گیا۔

اس ویب سائٹ پرسرچ کرنے کیلئے ادائیگی کرنا پڑتی ہے، آن لائن ادائیگی کی رسید ویب سائٹ متعلقہ بندے کو ای میل کرتی ہے، جن سیاسی شخصیات کی جائیداد سرچ کی گئیں اس کی رسیدیں بھی ساتھ لگائی ہیں، حکومت رسیدیں دے تو سامنے آجائیگا کہ جائیدادیں کس نے سرچ کیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کہتی ہے کہ دھرنا فیصلے پر ایکشن لینا ہوتا تو دونوں ججز کے خلاف لیتے، حکومت صرف فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ لکھنے والے جج کو ہٹانا چاہتی ہے۔

جسٹس قاضی فائز کے وکیل کے جوابی دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے کیس کا فیصلہ محفوظ کیا جسے کچھ دیر بعد سنادیا گیا۔

واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ہائی کورٹ کے 2 ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کر رکھے ہیں۔

حکومتی ذرائع کے مطابق ان ججز میں لاہور ہائیکورٹ اور سندھ ہائیکورٹ کے ایک، ایک جج بھی شامل تھے۔لاہور ہائیکورٹ کے سابق جج فرخ عرفان چونکہ سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی کے دوران استعفیٰ دے چکے ہیں اس لئے ان کا نام ریفرنس سے نکال دیا گیا ہے۔

پہلے ریفرنس میں جسٹس فائز عیسیٰ اور کے کے آغا پر بیرون ملک جائیداد بنانے کا الزام عائد کیا گیا۔ صدارتی ریفرنسز پر سماعت کیلئے سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس 14 جون 2019 کو طلب کیا گیا تھا، اس حوالے سے اٹارنی جنرل آف پاکستان اور دیگر فریقین کو نوٹسز بھی جاری کئے گئے تھے۔

ذرائع کے مطابق اٹارنی جنرل انور منصور خان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے جواب کا جواب الجواب کونسل کے اجلاس میں جمع کرا دیا ہے، کونسل اٹارنی جنرل کے جواب کا جائزہ لینے کے بعد حکم جاری کرے گی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے صدر مملکت کو خط لکھنے پر سپریم جوڈیشل کونسل میں ایک اور ریفرنس دائر کیا گیا تھا جس کو کونسل نے خارج کردیا تھا۔

اس کے بعد عدالت عظمیٰ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور دیگر کی جانب سے صدارتی ریفرنس کو چیلنج کیا گیا اور اس پر فل کورٹ سماعت کررہا تھا جس نے آج فیصلہ سنادیا ہے۔

متعلقہ خبریں

پلازمہ فروخت کرنیوالوں کیخلاف کارروائی کی جائے، لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائیکورٹ نے پلازمہ فروخت کرنیوالوں کیخلاف کارروائی کا حکم دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ میں کورونا مریضوں کا…

1 سال

لندن میں عمران خان کی 6 اور شہزاد اکبر کی 5 جائیدادیں…

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کے خلاف درخواست میں مزید دستاویزات جمع کرا…

1 سال

بینظیربھٹو پرالزام تراشی، امریکی خاتون بلاگر پرمقدمہ درج کرنے کا حکم

عدالت نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو پر الزام تراشی کرنے والی…

1 سال

اسلام آباد ہائیکورٹ نے چینی انکوائری کمیشن کی رپورٹ پر عمل درآمد…

اسلام آبادہائیکورٹ نے چینی کی قیمتوں میں اضافے پر انکوائری کمیشن کی رپورٹ کے خلاف درخواست کی سماعت…

1 سال

تازہ ترین

وبا کے دوران قربانی کے بارے میں احکامات

مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین اور معروف عالم دین مفتی منیب الرحمان کا کہنا ہے کہ قربانی…

1 سال

سروسز اسپتال لاہورمیں نرسز کی لڑائی میں چھریوں کے وار، متعدد زخمی

اس وقت پورا ملک کورونا وائرس کی وبا کے باعث پریشان نظر آ رہا ہے اور پوری عوام…

1 سال

یونس خان نے میرے گلے پر چاکو رکھ دیا تھا، گرانٹ فلاور…

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور نے یونس خان کے رویے کے بارے میں بڑا…

1 سال

پنجاب حکومت نے آٹے کی قیمت میں بڑی کمی کر دی

پنجاب حکومت نے آٹے کی قیمت میں کمی کر دی ہے۔ پنجاب کابینہ نے گندم کی عبوری پالیسی…

1 سال

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے