بِسمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِيم

16-December-2019

جج ویڈیو کیس کا عدالت خود جائزہ لے گی، مطالبے پر کچھ نہیں کریں گے۔ چیف جسٹس

Tariq Tariq
345 Views 0 5 مہینے
جج ویڈیو کیس کا عدالت خود جائزہ لے گی، مطالبے پر کچھ نہیں کریں گے۔ چیف جسٹس
Posted at 16 جولائی-2019

اسلام آباد۔ جج ویڈیو سکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد عدلیہ سخت دباؤ میں ہے۔ اس کا جائزہ لینے کیلئے آج سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ اس معاملے کا جائزہ لے رہا تھا۔ اس موقع پر سپریم کورٹ نے مبینہ کیس میں اٹارنی جنرل سے تجاویز طلب کرتے ہوئے سماعت 23 جولائی تک ملتوی کر دی۔ چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ تینوں درخواست گزاروں کی تجاویز نوٹ کر لی ہیں۔

Courtesy Twitter

ممکن ہے جج ارشد ملک کا تبادلہ پنجاب کر دیا جائے

اٹارنی جنرل انور منصور کلبھوشن کیس کے سلسلے میں ہیگ گئے ہوئے ہیں۔ وطن واپس آ کر اپنی تجاویز جمع کرا دیں گے۔ چیف جسٹس نے دوران سماعت ریمارکس دئیے کہ ممکن ہے کہ جج ارشد ملک کا تبادلہ پنجاب کر دیا جائے۔ ہائیکورٹ کے ماتحت جانے کے بعد ان کیخلاف کارروائی ہو سکتی ہے۔ اس پر وکیل طارق اسد ایڈووکیٹ نے کہا کہ احتساب کورٹ کے جج ارشد ملک مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے ہیں۔

کیا آپ کو ریٹائر جج قبول ہو گا؟

وہ ملکی تاریخ کا اہم ترین کیس دیکھ رہے تھے۔ وہ ملزموں سے ملے اگرکنڈیکٹ ایسا ہے تو پھر فیصلے کی حیثیت کیا ہو گی۔ سپریم کورٹ اس کیس کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن قائم کرے۔ اگر کسی اور ادارے نے تحقیقاتی کمیشن بنایا تو وہ جانبدار ہو گا۔ اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ایسے کمیشن کی سربراہی کون کرے گا؟ کیا آپ کو ریٹائر جج قبول ہو گا؟

کمیشن بنانے کا اختیار تو حکومت کے پاس بھی ہے

چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ بطور ثبوت اس ویڈیو کی کیا حیثیت ہے؟ بغیر اجازت کسی کی ویڈیو ریکارڈ کرنا جرم ہے، ہمیں جج کا کنڈکٹ بھی دیکھنا ہو گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس کیس کے بہت زیادہ پہلو ہیں، کمیشن بنانے کا اختیار تو حکومت کے پاس بھی ہے۔ چیف جسٹس نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب چیزیں ہم پر ڈال رہے ہیں۔ ہم کچھ کریں گے تو پھر آپکو اعتراض ہو گا۔ درخواست گزار کے وکیل منیر صادق نے کہا کہ جج کو بلیک میل نہیں کیا جانا چاہئے۔

عدالتیں لوگوں کے کہنے پر کچھ نہیں کرتیں

عدالت غیر جانبدار انکوائری کمیشن قائم کرے جو سچ کی تلاس کرے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر عدالت کو کچھ کرنا ہو گا تو وہ خود کرے گی کسی کے کہنے پر نہیں کریں گے۔ عدالتیں لوگوں کے کہنے پر کچھ نہیں کرتیں۔ سچ کی تلاش تو پہلے بنی نوع انسان کے وجود میں آنے سے جاری ہے۔ وکیل درخواست گزار کی جانب سے سیاستدانوں کے ویڈیو سکینڈل کے حوالے آپ کی تجویز لکھ لی ہے۔۔

غیر ذمہ دارانہ بیانات ہمارے معاشرے کا المیہ ہے۔ سب جج، پٹواری، سیاستدان، بیوروکریٹ، پولیس افسران ایسے ہیں۔ ایسے بیانات سے لوگوں کی دل آزاری ہوتی ہے۔ عدالت عظمٰی نے کیس کی مزید سماعت 23 جولائی تک ملتوی کر دی۔

متعلقہ خبریں

آج کا دن سقوط ڈھاکہ اور سانحہ اے پی ایس کی یاد…

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا ہے کہ 16 دسمبر کو پاکستان کی تاریخ میں دو سانحات…

4 گھنٹے
آج کا دن سقوط ڈھاکہ اور سانحہ اے پی ایس کی یاد دلاتا ہے، چیف جسٹس

ملکی عدالتیں عدل جہانگیر دور میں داخل ہیں۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ

چیف جسٹس سپریم کورٹ آصف سعید کھوسہ کا کہنا ہے کہ ملکی عدالت عدل جہانگیری کے دور میں…

2 دن

عدلیہ اکاؤنٹس کمیٹی میں خود کے احتساب کے لئے تیار نہیں۔ فواد…

وفاقی وزیر سائنس اور ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ عدلیہ اراکین پارلیمنٹ کا احتساب کرتی ہے…

2 دن

پی آئی سی کیس، عدالت نے پولیس افسران کو شو کاز نوٹس…

پی آئی سی حملہ کیس میں ریکارڈ عدالت میں جمع نہ کروانے والے پولیس افسران کو شوکاز نوٹس…

2 دن
پی آئی سی کیس، عدالت نے پولیس افسران کو شو کاز نوٹس جاری کردئیے

تازہ ترین

سرکاری اداروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا آسان ہو گیا

وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے تین انفارمیشن…

5 گھنٹے
سرکاری اداروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا آسان ہو گیا

وزیر اعظم عمران خان بحرین پہنچ گئے

وزیر اعظم عمران خان بحرین پہنچ گئے ہیں۔ ان کا استقبال بحرین شاہ سلمان بن حماد بن عیسی…

4 گھنٹے
وزیر اعظم عمران خان بحرین پہنچ گئے

آج کا دن سقوط ڈھاکہ اور سانحہ اے پی ایس کی یاد…

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا ہے کہ 16 دسمبر کو پاکستان کی تاریخ میں دو سانحات…

4 گھنٹے
آج کا دن سقوط ڈھاکہ اور سانحہ اے پی ایس کی یاد دلاتا ہے، چیف جسٹس

ترکی نے امجد اسلام امجد کیلئے سرکاری ایوارڈ کا اعلان کر دیا

ترکی نے سرکاری ایوارڈ انٹرنیشنل آرٹ اینڈ کلچر پرائز پاکستان کے نامور ادیب، شاعر اور ڈرامہ نگار امجد…

2 گھنٹے
ترکی نے امجد اسلام امجد کیلئے سرکاری ایوارڈ کا اعلان کر دیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے