بِسمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِيم

12-July-2020

لندن میں عمران خان کی 6 اور شہزاد اکبر کی 5 جائیدادیں ہیں

masooma mufferih masooma mufferih
72 Views 0 4 ہفتے
جسٹس فائز عیسی کیس کا فیصلہ محفوظ، آج سنائے جانے کا امکان
Global Village Space
Posted at 17 جون-2020

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کے خلاف درخواست میں مزید دستاویزات جمع کرا دیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 10 رکنی فل کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے خلاف ریفرنس ساے متعلق درخواستوں پر سماعت کی۔

حکومتی وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے عدالت میں کہا کہ انہوں نے عدالت کے ایک سوال پر صدر مملکت اور وزیراعظم سے مشاورت کی ہے، وزیراعظم کہتے ہیں انہیں عدلیہ کا بڑا احترام ہے، ہمیں معاملہ ایف بی آر کو بھیجنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے.

درخواست گزار جج اور اہلیہ ایف بی آر کے ساتھ تعاون کریں اور ایف بی آر 2 ماہ میں فیصلہ کر لے۔ وزیر اعظم نے کہا ہے کہ لندن میں میری ایک پراپرٹی بھی نکلے تو ضبط کر لیں، اس کی رقم قومی خزانے میں ڈال دیں۔

جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیئے کہ جج نے اپنے جواب میں یہ نہیں کہا لپ لندن میں یہ جائیدادیں وزیراعظم کی ہیں، انہوں نے ویب سائٹ کے حوالے سے بات کی ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے جمع کرائی گئی دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کے نام پر برطانیہ میں 6 اور شہزاد اکبر کے نام پر 5 جائیدادیں ہیں اور یہ معلومات برطانوی لینڈ ریکارڈ کے سرچ انجن 192 ڈاٹ کام سے لی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے مطابق میرے اہلخانہ کی جائیدادیں بھی اسی ویب سائٹ سے تلاش کی گئیں، جواب میں کہا گیا ہے کہ شہزاد اکبر کے نام پر برطانیہ میں 5، ذوالفقار بخاری کے نام پر 7 جائیدادیں ہیں.

عثمان ڈار اور فردوس عاشق اعوان کے نام پر بھی برطانیہ میں جائیدادیں ہیں، اس کے علاوہ جہانگیر ترین اور پرویز مشرف بھی برطانیہ میں جائیدادوں کے مالک ہیں۔

درخواست میں مwقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ الزام نہیں لگاتا کہ حکومتی شخصیات نے جائیدادیں ناجائز ذرائع سے بنائیں، ایف بی آر تعین کرے کہ حکومتی شخصیات نے کتنی قابل ٹیکس آمدن ظاہر کی، اسٹیٹ بنک بھی تعین کرے کیا حکومتی شخصیات نے پیسہ جائز طریقے سے بیرون ملک بھیجا؟

درخواست میں اثاثہ جات ریکوری یونٹ اور اس کے تمام اقدامات کو کالعدم قرار دینے اور شہزاد اکبر اور اے آر یو کے ماہر انٹرنیشنل کریمنل لا ضیا المصطفی نسیم سے تمام تنخواہیں اور مراعات واپس لینے کی استدعا کی گئی ہے۔

دوران سماعت جسٹس قاضی فائز خود سپریم کورٹ پہنچ گئے ، فروغ نسیم کے دلائل کے دوران عدالتی اجازت ملنے پر جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ حکومت نے عدالتی تجویز سے اتفاق کیا ہے، مجھے اس پر جواب دینا ہے، یہ قاضی فائز عیسٰی کا مقدمہ نہیں ہم سب کا مقدمہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ الزام لگایا گیا ہے کہ ججز مجھے بچانا چاہتے ہیں، میرے اور میرے اہلخانہ کے ساتھ کیا ہوا اس میں نہیں جانا چاہتا، ریفرنس سے پہلے میرے خلاف خبریں چلیں، حکومت کی جانب سے تاخیر سے جواب جمع کرائے گئے۔

جوڈیشل کونسل نے ایک بار بھی بلا کر میرا موقف نہیں سنا۔ اگر جج بننے کا اہل نہیں تو آج ہی گھر بھیج دیا جائے۔ سابق اٹارنی جنرل نے کہا کہ ساتھی ججز نے درخواست تیار کرنے میں مدد کی، میں التجا کرتا ہوں کہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔

قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حکومتی وکیل کہتے ہیں کہ منی ٹریل آج بتا دیں یا کل بتا دیں، پہلے انہوں نے تسلیم کیا کہ وہ ان جائیدادوں سے آگاہ ہیں، تسلیم کیا کہ یہ جائیدادیں میری اہلیہ اور بچوں کی ہیں، ان جائیدادوں کو چھپانے کے لئے کوئی چیز استعمال نہیں کی گئی۔

جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ میری اہلیہ کو ریفرنس کی وجہ سے بہت کچھ جھیلنا پڑا ہے، میری اہلیہ ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں موقف پیش کرنا چاہتی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ وہ ایف بی آر کو کچھ نہیں بتائیں گی، اہلیہ کہتی ہیں کہ ایف بی آر نے ان کی تذلیل کی ہے۔ عدالت میری اہلیہ کو ویڈیو لنک کے ذریعے موقف پیش کرنے کا موقع دے۔

حکومتی وکیل کا کہنا تھا کہ نے کبھی معزز جج کے بارے میں منفی سوچ نہیں رکھتی، جج صاحب سے میری کوئی دشمنی نہیں، اگر مناسب جواب دیتے ہیں تو معاملہ ختم ہو جائے گا۔

جسٹس عمرعطابندیال نے کہا کہ اہلیہ کا بیان بڑا اہم ہوگا، اگر اہلیہ جواب دیتی ہیں تو سارا عمل شفاف ہو جائے گا، ہماری درخواست ہے کہ وہ تحریری جواب داخل کر کے موقف دیں، تحریری جواب آنے کے بعد مقدمے کو سماعت کے لئے مقرر کیا جائے گا۔

جسٹس قاضی فائزعیسی نے کہا کہ میری اہلیہ وکیل نہیں ہیں، انہیں کسی وکیل کی معاونت نہیں ہوگی، وہ تحریری جواب جمع کرانے کی پوزیشن میں نہیں، اہلیہ کہتی ہیں اکاونٹ بتانے پر حکومت اس میں پیسہ ڈال کر نیا ریفرنس نہ بنا دے، اہلیہ کا موقف سن کر جتنے مرضی سوال کریں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ جج صاحب ہم آپ کا احترام کرتے ہیں۔ آپ تشریف رکھیں، 9 ماہ میں ہم نے بھی کیس کی تیاری کی ہے، اس لئے کہتے ہیں کہ ریفرنس میں نقائص ہیں، ہم اس کیس کو ایف بی آرکو بھیج رہے ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس سے متعلق سماعت میں سپریم کورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ ریفرنس میں کئی خامیاں ہیں، اگر ریفرنس بدنیتی پر مبنی ہوا تو اسے خارج کر دیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

سپریم کورٹ نے 120 نئی احتساب عدالتوں کے قیام کا حکم دیدیا

سپریم کورٹ نے کرپشن کے مقدمات جلد نمٹانے اور نیب ریفرنسز کے فیصلوں کیلئے 120 نئی احتساب عدالتوں…

4 دن
سپریم کورٹ نے 120 نئی احتساب عدالتوں کے قیام کا حکم دیدیا

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پب جی کی پابندی کیخلاف درخواست مسترد کردی

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پب جی گیم کی پابندی کے خلاف درخواست نمٹا دی ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ…

5 دن
پب جی انتظامیہ نے پاکستانی ٹیم کو انٹرنیشنل لیگ میں حصہ لینے سے روکدیا

نواز شریف کو سزا سنانے والے جج ارشد ملک ملازمت سے برطرف

لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سزا سنانے والےاحتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو…

1 ہفتہ
نواز شریف کو سزا سنانے والے جج ارشد ملک کو برطرف کردیا گیا

پلازمہ فروخت کرنیوالوں کیخلاف کارروائی کی جائے، لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائیکورٹ نے پلازمہ فروخت کرنیوالوں کیخلاف کارروائی کا حکم دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ میں کورونا مریضوں کا…

3 ہفتے
پلازمہ فروخت کرنیوالوں کیخلاف کارروائی کی جائے، لاہور ہائیکورٹ

تازہ ترین

انڈیا میں ٹک ٹاک پر پابندی، کمپنی نے ہیڈ کوارٹر چین سے…

انڈیا میں پابندی کے بعد ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک نے اپنا ہیڈ کوارٹر چین سے باہر منتقل…

15 گھنٹے
انڈیا میں ٹک ٹاک پر پابندی، کمپنی نے ہیڈ کوارٹر چین سے نکالنے کا منصوبہ بنا لیا

کل سے لوڈ شیڈنگ نہیں ہو گی

وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کراچی میں کل سے غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کےخاتمے کا اعلان کردیا۔ گورنرسندھ…

16 گھنٹے
کل سے لوڈ شیڈنگ نہیں ہو گی

ویڈیو گیمز کھیلنے سے 15 سالہ لڑکے کا ہاتھ اور بازو مفلوج…

ویڈیو گیمز کھیلنے سے 15 سالہ لڑکے کا ہاتھ اور بازو مفلوج ہو گیا۔ چین کے شہر نیننگ…

17 گھنٹے
ویڈیو گیمز کھیلنے سے 15 سالہ لڑکے کا ہاتھ اور بازو مفلوج ہو گیا

پب جی انتظامیہ نے پاکستانی ٹیم کو انٹرنیشنل لیگ میں حصہ لینے…

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشنز اتھارٹی (پی ٹی اے ) کی جانب سے پب جی گیم پر پابندی کے بعد…

18 گھنٹے
پب جی انتظامیہ نے پاکستانی ٹیم کو انٹرنیشنل لیگ میں حصہ لینے سے روکدیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے