بِسمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِيم

24-August-2019

شہباز شریف کی لیگل ٹیم نے برطانوی اخبار کیخلاف ہرجانے کا کیس مضبوط قرار دے دیا

232 Views 0 1 مہینہ
شہباز شریف کی لیگل ٹیم نے برطانوی اخبار کیخلاف ہرجانے کا کیس مضبوط قرار دے دیا
Posted at 22 جولائی-2019

لندن۔ پاکستان سیاست آج الزامات کی سیاست سے لتھڑی ہوئی دکھائی دیتی ہے حالانکہ ایک دوسرے پر الزام بازی کے بجائے یہ کام نیب اور تفتیشی اداروں پر چھوڑ دینا چاہئے۔ اپوزیشن رہنما شہباز شریف پر برطانوی اخبار دی میل نے زلزلہ زدگان کیلئے برطانوی رقم کے 20 لاکھ پاؤنڈ ہڑپ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

دی میل نے زلزلہ زدگان کیلئے برطانوی رقم کے 20 لاکھ پاؤنڈ ہڑپ کرنے کا الزام عائد کیا

اس میں سے 10 لاکھ پاؤنڈ ان کے داماد علی عمران نے وصول کئے جسے شہباز شریف نے مسترد کر دیا۔ حکومتی وزراء نے بھی برطانوی اخبارات کے ثبوت میڈیا پر دکھائے۔ البتہ زلزلہ زدگان کیلئے رقوم دینے والے برطانوی ادارے نے کرپشن کی تردید کر دی۔ اس ادارے کا کہنا تھا کہ برطانوی ٹیکس دہندگان کی رقم صحیح خرچ ہوئی۔

لیگل ٹیم کی ڈیلی میل کیخلاف قانونی چارہ جوئی کی تصدیق

اس کا باقاعدہ آڈٹ بھی کیا مگر دی میل کے صحافی شہباز شریف پر اپنے الزامات کی سچائی پر قائم ہیں۔ دوسری جانب شہباز شریف نے بھی مذکورہ صحافی اور اخبار پر ہرجانے کا دعویٰ دائر کرنے کیلئے اپنی قانونی ٹیم معروف وکیل سلمان بٹ کی نگرانی میں برطانیہ بھجوائی۔

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کی لیگل ٹیم نے برطانوی اخبار ڈیلی میل کیخلاف قانونی چارہ جوئی کی تصدیق کر دی ہے۔ برطانیہ سے آمدہ اطلاعات کے مطابق لندن میں موجود لیگل ٹیم نے شہباز شریف کو بتایا ہے کہ ان کا کیس مضبوط ہے۔

متعلقہ خبریں

مودی تم سری نگر میں جلسہ کر کے…

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول نے اسکردو میں جلسہ کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو چیلنج…

1 دن

قندیل بلوچ قتل کیس کے ملزمان کی معافی…

ملتان۔ سابق ماڈل و اداکارہ قندیل بلوچ کا اندھا قتل نہ صرف ان کے پرستاروں بلکہ بوڑھے والدین…

1 دن

سابق وزیراعظم بلٹ پروف گاڑی کیس میں شامل…

اسلام آباد۔ اختیار ایک ایسی شے ہے جب بندے کے پاس ہو تو اسے غلط اور صحیح کی…

1 دن

ملک ریاض 25 ارب روپے کی قسط ادا…

اسلام آباد۔ وفاقی حکومت نے عدالت کے ذریعے بحریہ ٹاؤن سے رقم ادائیگی کیس کے پیسے مانگ لئے۔…

1 دن
ملک ریاض 25 ارب روپے کی قسط ادا کرے۔ سپریم کورٹ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے