بِسمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِيم

20-May-2019

حق پر کون، احتجاجی ڈاکٹرز یا حکومت

75 Views 0 3 ہفتے
حق پر کون، احتجاجی ڈاکٹرز یا حکومت
Posted at 2 مئی-2019

لاہور۔ پی ٹی آئی حکومت کا دعویٰ ہے کہ خیبر پختونخوا میں اس کی حکومت نے ہیلتھ میں بہت سی سہولیات عام لوگوں تک پہنچائیں۔ اس کا سہرا ایم ٹی آئی ایکٹ کو دیا جاتا ہے۔ اس ایکٹ کے تحت سرکاری ہسپتالوں میں کام کرنیوالے ڈاکٹرز پر کڑی نگرانی کی جا سکتی ہے۔ ڈاکٹر کب ہسپتال آئے کب چھٹی کی سب نوٹ ہو گا۔ ڈاکٹرز کی ترقی اب ان کے تجربے ہی نہیں بلکہ رویے اور اچھے کام پر ہو گی۔

حکومت نوٹ کر سکے گی کہ کس ڈاکٹر نے مریض کے ساتھ کیسا رویہ اپنایا۔ مریض کے ساتھ ناروا سلوک ہوا تو ڈاکٹر کیخلاف ایکشن ہوا۔ اب خیبر پختونخوا کے بعد پنجاب میں بھی ایم ٹی آئی ریفارمز ایکٹ لانے پر ینگ ڈاکٹر نے پنجاب بھر کے او پی ڈیز بند کر دیں اور احتجاجی مظاہرے کئے۔ ینگ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اس ایکٹ کے نافذ کے بعد غریبوں کا مفت علاج کی سہولیات ختم ہو جائیں گی اور یہ ایک غریب دشمن ایکٹ ہے۔

ایم ٹی آئی ریفارمز ایکٹ 2019ء ہے کیا؟

آسان لفظوں میں اس ایکٹ کے تحت ڈاکٹرز کو سزا اور جزا دونوں باآسانی دی جا سکیں گی۔ ایم ٹی آئی ایکٹ کی منظوری کے بعد حکومت ڈاکٹرز سے نئے معاہدوں پر دستخط کروائے گی جس کے بعد ڈاکٹرز احتجاج نہیں کر سکیں گے۔

ہر ہسپتال کا بورڈ آف گورنرز ہو گا جن میں صنعت کاروں اور دیگر افراد بھی شامل ہو سکتے ہیں جو ہسپتالوں کو فنڈنگ بھی کریں گے۔ ڈاکٹرز کو پرائیویٹ پریکٹس کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ حکومت ڈاکٹرز کو کہے گی کہ جس نے بھی پرائیویٹ پریکٹس کرنی ہے وہ سرکاری ہسپتالوں میں ہی اپنی ڈیوٹی کے بعد کریں۔ حکومت ان ڈاکٹرز کی فیس بھی طے کرے گی

موجودہ پرائیویٹ ہسپتالوں کی نسبت کافی کم ہو گی۔ اس لئے ایسی خبریں بھی سامنے آئی ہیں کہ ان ڈاکٹرز کو احتجاج کیلئے پرائیویٹ ہسپتال مالکان بھی فنڈنگ کر رہے ہیں۔

ایم ٹی آئی ایکٹ کے تحت اب تمام ٹیچنگ ہسپتال وزارت صحت کے ماتحت ہوں گے اور تمام تر ہدایات وزیر صحت سے سکیں گی مگر موجودہ قانون کے تحت ایسا نہیں ہے۔

ڈاکٹرز کو ایم پی ای ایکٹ سے کیا شکایت ہے

حکومت کا کہنا ہے کہ اس ایکٹ کے تحت جو بھی بھرتی کی جائے گی۔ اس کا اب طریقہ کار واضح ہو گا۔ ڈاکٹرز کو خدشہ ہے کہ اس طریقہ کار سے حکومت اپنے من پسند افراد کو بھرتی کر سکتی ہے۔ ڈاکٹرز کا دعویٰ ہے کہ اس سے غریب مریضوں کیلئے علاج مہنگا ہو جائے گا

حکومت کا کہنا ہے کہ مریضوں کو ہسپتالوں میں مفت علاج دستیاب ہو گا مگر ساتھ ہی پرائیویٹ علاج کی سہولت بھی دی جائے گی۔ اس ایکٹ کو عمل میں لانے کیلئے پنجاب اسمبلی سے منظوری ضروری ہے اور خیبر پختونخوا میں یہ دیکھا گیا تھا کہ اپوزیشن کی جانب سے بہت احتجاج بھی کیا گیا۔

اب ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے دھمکی دی ہے کہ حکومت اگر اپنا فیصلہ نہیں بدلتی تو وہ ہسپتالوں کے انڈور بھی بند کر دیں گے اور یہ حتجاج تب تک جاری رہے گا جب تک اس ایکٹ کو حکومت واپس نہیں لے لیتی۔ حیبر پختونخوا میں بھی ڈاکٹرز تنظیموں نے ڈی ایچ اے اور آر ایچ اے ایکٹ کیخلاف احتجاج کیا اور لیڈی ریڈنگ ہپتال میں او پی ڈی سروسز بند کر دی۔

متعلقہ خبریں

اسٹیٹ بنک کا دو ماہ کیلئے مانیٹری پالیسی…

کراچی۔ آئی ایم ایف کے پروگرام میں جانے کے بعد شرح سود میں اضافہ کی پیش گوئی کی…

5 گھنٹے
اسٹیٹ بنک کا دو ماہ کیلئے مانیٹری پالیسی کا اعلان

مسلمانوں کو چرچ میں رمضان کے دوران عبادت…

لندن۔ درہم کی ایک چرچ کی جانب سے مسلمانوں کیلئے رمضان المبارک میں عبادت کی اجازت دینے کے…

6 گھنٹے
مسلمانوں کو چرچ میں رمضان کے دوران عبادت کی اجازت دیکر فیصلہ واپس لے لیا

گاڑیوں میں سیفٹی بیگ نصب کرنے کا مطالبہ

لاہور۔ ہمارے پنجاب اسمبلی کے کئی اراکین ایسے ہیں جنہیں خیر سے کبھی تقریر کرنے کی توفیق نہیں…

7 گھنٹے
گاڑیوں میں سیفٹی بیگ نصب کرنے کا مطالب

میکی آرتھر میگا ایونٹ میں قومی ٹیم کی…

لندن۔ ورلڈکپ 2019ء کیلئے پاکستان نے اپنی حتمی الیون کا اعلان کر دیا ہے۔ 15 رکنی سکواڈ کی…

8 گھنٹے
میکی آرتھر میگا ایونٹ میں قومی ٹیم کی عمدہ کارکردگی کیلئے پرامید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے