بِسمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِيم

22-July-2019

حق پر کون، احتجاجی ڈاکٹرز یا حکومت

259 Views 0 3 مہینے
حق پر کون، احتجاجی ڈاکٹرز یا حکومت
Posted at 2 مئی-2019

لاہور۔ پی ٹی آئی حکومت کا دعویٰ ہے کہ خیبر پختونخوا میں اس کی حکومت نے ہیلتھ میں بہت سی سہولیات عام لوگوں تک پہنچائیں۔ اس کا سہرا ایم ٹی آئی ایکٹ کو دیا جاتا ہے۔ اس ایکٹ کے تحت سرکاری ہسپتالوں میں کام کرنیوالے ڈاکٹرز پر کڑی نگرانی کی جا سکتی ہے۔ ڈاکٹر کب ہسپتال آئے کب چھٹی کی سب نوٹ ہو گا۔ ڈاکٹرز کی ترقی اب ان کے تجربے ہی نہیں بلکہ رویے اور اچھے کام پر ہو گی۔

حکومت نوٹ کر سکے گی کہ کس ڈاکٹر نے مریض کے ساتھ کیسا رویہ اپنایا۔ مریض کے ساتھ ناروا سلوک ہوا تو ڈاکٹر کیخلاف ایکشن ہوا۔ اب خیبر پختونخوا کے بعد پنجاب میں بھی ایم ٹی آئی ریفارمز ایکٹ لانے پر ینگ ڈاکٹر نے پنجاب بھر کے او پی ڈیز بند کر دیں اور احتجاجی مظاہرے کئے۔ ینگ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اس ایکٹ کے نافذ کے بعد غریبوں کا مفت علاج کی سہولیات ختم ہو جائیں گی اور یہ ایک غریب دشمن ایکٹ ہے۔

ایم ٹی آئی ریفارمز ایکٹ 2019ء ہے کیا؟

آسان لفظوں میں اس ایکٹ کے تحت ڈاکٹرز کو سزا اور جزا دونوں باآسانی دی جا سکیں گی۔ ایم ٹی آئی ایکٹ کی منظوری کے بعد حکومت ڈاکٹرز سے نئے معاہدوں پر دستخط کروائے گی جس کے بعد ڈاکٹرز احتجاج نہیں کر سکیں گے۔

ہر ہسپتال کا بورڈ آف گورنرز ہو گا جن میں صنعت کاروں اور دیگر افراد بھی شامل ہو سکتے ہیں جو ہسپتالوں کو فنڈنگ بھی کریں گے۔ ڈاکٹرز کو پرائیویٹ پریکٹس کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ حکومت ڈاکٹرز کو کہے گی کہ جس نے بھی پرائیویٹ پریکٹس کرنی ہے وہ سرکاری ہسپتالوں میں ہی اپنی ڈیوٹی کے بعد کریں۔ حکومت ان ڈاکٹرز کی فیس بھی طے کرے گی

موجودہ پرائیویٹ ہسپتالوں کی نسبت کافی کم ہو گی۔ اس لئے ایسی خبریں بھی سامنے آئی ہیں کہ ان ڈاکٹرز کو احتجاج کیلئے پرائیویٹ ہسپتال مالکان بھی فنڈنگ کر رہے ہیں۔

ایم ٹی آئی ایکٹ کے تحت اب تمام ٹیچنگ ہسپتال وزارت صحت کے ماتحت ہوں گے اور تمام تر ہدایات وزیر صحت سے سکیں گی مگر موجودہ قانون کے تحت ایسا نہیں ہے۔

ڈاکٹرز کو ایم پی ای ایکٹ سے کیا شکایت ہے

حکومت کا کہنا ہے کہ اس ایکٹ کے تحت جو بھی بھرتی کی جائے گی۔ اس کا اب طریقہ کار واضح ہو گا۔ ڈاکٹرز کو خدشہ ہے کہ اس طریقہ کار سے حکومت اپنے من پسند افراد کو بھرتی کر سکتی ہے۔ ڈاکٹرز کا دعویٰ ہے کہ اس سے غریب مریضوں کیلئے علاج مہنگا ہو جائے گا

حکومت کا کہنا ہے کہ مریضوں کو ہسپتالوں میں مفت علاج دستیاب ہو گا مگر ساتھ ہی پرائیویٹ علاج کی سہولت بھی دی جائے گی۔ اس ایکٹ کو عمل میں لانے کیلئے پنجاب اسمبلی سے منظوری ضروری ہے اور خیبر پختونخوا میں یہ دیکھا گیا تھا کہ اپوزیشن کی جانب سے بہت احتجاج بھی کیا گیا۔

اب ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے دھمکی دی ہے کہ حکومت اگر اپنا فیصلہ نہیں بدلتی تو وہ ہسپتالوں کے انڈور بھی بند کر دیں گے اور یہ حتجاج تب تک جاری رہے گا جب تک اس ایکٹ کو حکومت واپس نہیں لے لیتی۔ حیبر پختونخوا میں بھی ڈاکٹرز تنظیموں نے ڈی ایچ اے اور آر ایچ اے ایکٹ کیخلاف احتجاج کیا اور لیڈی ریڈنگ ہپتال میں او پی ڈی سروسز بند کر دی۔

متعلقہ خبریں

طالبان کو جنگ بندی پر راضی کرنے کیلئے…

اسلام آباد۔ اگلے سال امریکہ کا صدارتی انتخاب ہونے جا رہاہے۔ صدر ٹرمپ دوسری ٹرم کیلئے امریکی صدر…

6 گھنٹے
طالبان کو جنگ بندی پر راضی کرنے کیلئے امریکہ پاکستان کے کردار کا خواہش مند

واٹس ایب پر تفتیشی پولیس افسران کو ہیبت…

لاہور۔ نیب لاہور پنجاب پولیس کیخلاف گجرات، ساہیوال اور شیخوپورہ ریجنز میں حکومتی خزانے کو اربوں روپے کا…

7 گھنٹے
واٹس ایب پر تفتیشی پولیس افسران کو ہیبت ناک نتائج کی دھمکیوں کا انکشاف

مون سون بارشوں کی وجہ سے دریاؤں کے…

مظفر آباد۔ مون سون کا آغاز ہوتے ہی آزاد کشمیر کے دریاؤں میں ابال آنا شروع ہو جاتا…

7 گھنٹے
مون سون بارشوں کی وجہ سے دریاؤں کے کنارے رہنے والے کشمیری رہائشیوں کیلئے وا رننگ

چیئرمین سینیٹ نہ بنایا تھا اور نہ اب…

اسلام آباد۔ سابق صدر آصف زرداری کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ زبان کے پکے ہیں۔ شاید…

8 گھنٹے
چیئرمین سینیٹ نہ بنایا تھا اور نہ اب اتار رہے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے