بِسمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِيم

20-September-2019

علی زیدی کا کراچی میں مردم شماری غلط ہونے کا اعتراف

123 Views 0 4 ہفتے
علی زیدی کا کراچی میں مردی شماری غلط ہونے کا اعتراف
Posted at 26 اگست-2019

کراچی۔ سابق مسلم لیگ ن دور حکومت میں ڈیڑھ دہائی سے زائد عرصہ بعد مردم شماری ہوئی تھی۔ اس مردم شماری میں پاکستان کے سب سے بڑے میٹروپولیٹن شہر کی آبادی کو کہیں کم دکھایا گیا تھا جس پر ایم کیو ایم سمیت سندھ کی تمام جماعتیں سراپا احتجاج تھیں مگر تب اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ اب شہر قائد سے کچرا اٹھانے کی ذمہ داری وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی نے اپنے ذمے لی ہے۔

وہ اس کام میں شب و روز مصروف ہیں مگر کراچی کا کچرا ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔ جتنا ایک روز میں اٹھایا جاتا ہے اس سے زیادہ اگلے دن پھر سڑکوں پر آ جاتا۔ اب علی زیدی نے بھی اعتراف کر لیا ہے کہ کراچی میں مردم شماری غلط ہوئی ہے۔ اسی وجہ سے شہر میں مسائل زیادہ ہیں۔ اب کراچی کی آبادی مردم شماری میں ایک کروڑ 60 لاکھ دکھائی گئی ہے جبکہ اصلی آبادی پونے تین کروڑ کے لگ بھگ ہے ۔

Courtesy Dawn

کراچی کی اصلی آبادی پونے تین کروڑ کے لگ بھگ

اب سندھ حکومت ایک کروڑ ساٹھ آبادی کے حساب سے 8 سے 9 ہزار ٹن کوڑا روزانہ اٹھاتی ہے۔ پانچ چھ ہزار ٹن کوڑا سڑکوں پر رہ جاتا ہے۔اب اصلی آبادی پونے تین کروڑ کیلئے 15 سے 16 ہزار ٹن کوڑا بنتا ہے۔ اسی فرق کی وجہ سے کراچی مسائلستان بنا ہوا ہے۔ کراچی کے تینوں سٹیک ہولڈرز اصل مسائل کی بجائے ایک دوسریپر الزامات کی سیاست کر رہے ہیں۔

علی زیدی نے اپنی 20 دن کی کارکردگی سے بھی میڈیا کو آگاہ کیا کہ اس دوران 48 ہزار ٹن کچرا نالوں سے صاف کیا گیا جسے اب لینڈ فل سائٹ پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ یہ کام صرف ایف ڈبلیو او ہی کر سکتا ہے۔ میں ہاتھ جوڑ کر وزیراعلٰی سے درخواست کرتا ہوں کہ کراچی کو صاف کیا جائے کیونکہ شہر قائد کی حالت بہت خراب ہو چکی ہے۔ یہ ہمارا کام نہیں۔ میئر کراچی کی درخواست پر شہر میں صفائی کا کام شروع کیا۔

Courtesy faceBook

صفائی کیلئے ہمیں ساڑھے آٹھ کروڑ ملے

صفائی کیلئے ہمیں ساڑھے آٹھ کروڑ ملے ہیں جس میں سے ساڑھے چار کروڑ خرچ کر دئیے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بارشوں کے دوران کراچی میں کرنٹ لگنے سے ہونیوالی ہلاکتوں کیخلاف سندھ حکومت کے الیکٹرک کے کیخلاف کارروائی کرے۔ کے الیکٹرک کی جانب سے ملنے والے دو کروڑ اس میں رکاوٹ نہیں بنیں گے۔ شہر قائد کو ہم نے ہر صورت صاف کرنا ہے۔

کچرا سڑک پر پھینک دیا جاتا ہے

کلین کراچی مہم شہر قائد کی کمپین ہے۔ کراچی میں جی ٹی ایس نہیں ہے۔ اس لئے کچرا سڑک پر پھینک دیا جاتا ہے۔ شہر میں جی ٹی ایس بنانا اشد ضروری ہے۔ علی زیدی کا مزید کہنا تھا کہ ناصر شاہ کو غلط معلومات فراہم کی گئی ہیں کہ شہر میں 11 جی ٹی ایس ہیں۔ اصل میں پانچ آپریشنل جی ٹی ایس ہیں، پارکس اور سڑکوں کو جی ٹی ایس بنا دیا گیا۔

اب شہر میں گندگی اتنی زیادہ ہے کہ اس پر سپرے کرنا لازمی ہے۔ شہر میں مچھروں اور مکھیوں نے حملہ کر دیا ہے۔ کیا یہ کام بھی اب ہمیں کرنا ہے۔ آپ لکھ کر دیں تو یہ کام بھی کر دیں گے۔

متعلقہ خبریں

کوئی طوفان نہیں آ رہا، تمام خبریں غلط ہیں۔ محکمہ موسمیات

دو روز پہلے روزنامہ جنگ نے دعوی کیا کہ پاکستانی میں طاقتور ترین طوفان کا خطرہ ہے جس…

5 دن

پاکستان بھر میں زلزلے کے شدید جھٹکے

لاہور۔ آج وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، مانسہرہ اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کئے گئے۔ اس…

2 ہفتے
پاکستان بھر میں زلزلے کے شدید جھٹکے

شہر قائد میں گرمی کا حملہ

کراچی میں بارشوں کا سلسلہ تھمتے ہی سورج نے دوبارہ سے ڈیرے ڈال دئیے ہیں جبکہ سمندری ہواوں…

2 ہفتے

کراچی کی سڑکیں پھر سیلابی منظر پیش کرنے لگیں

کراچی۔ ایک دور میں شہر قائد کے باسیبارش کیلئے ترس تھے مگر اس مرتبہ اس قدر اب کرم…

3 ہفتے
کراچی کی سڑکیں پھر سیلابی منظر پیش کرنے لگیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے