بِسمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِيم

19-September-2019

چھبیس ہزار میں سے محض 137 پاس

91 Views 0 2 ہفتے
Facebook
Posted at 2 ستمبر-2019

لاہور۔ کسی بھی ملک کا نظام تعلیم اس کے معیار زندگی کا تعین کرتا ہے۔ بدقسمتی سے ہم معیار تعلیم میں دیگر ممالک سے کہیں پیچھے ہیں۔ اس کا اندازہ پنجاب پبلک سروس کمیشن کے تحت پی ایم ایس 2019ء افسر شاہی کے امتحان کے نتائج کے اعلان سے لگایا جا سکتا ہے۔ صرف 1 فیصد بھی امیدوار امتحان پاس نہ کر سکے۔ یہ نتائج ہمارے نظام تعلیم کے منہ پر طمانچہ بھی ہیں۔

Courtesy Facebook

اکثریت جنرل نالج، انگریزی، مطالعہ پاکستان اور پاکسان افیئرز میں فیل

پاس ہونے کا تناسب عشاریہ 53 فیصد رہا۔ 99 عشاریہ 47 فیصد افسر بننے کیلئے امیدوار تحریری ٹیسٹ میں ہی فیل ہو گئے۔ پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریری ٹیسٹ میں اکثریت جنرل نالج، انگریزی، مطالعہ پاکستان اور پاکسان افیئرز میں فیل ہوئی۔

پنجاب پبلک سروس کمیشن نے صوبائی مینجمنٹ سروس کے 2019ء بیج کیلئے 84 آسامیوں کیلئے 7 اپریل سے 22 اپریل امتحانات لئے۔ تحریری ٹیسٹ میں 26 ہزار 228 امیدواروں نے شرکت کی۔ ان میں سے صرف 137 کامیاب ہوئے جبکہ 26 ہزار 90 امیدوار ناکامی سے دوچار ہوئے۔

واضح رہے تحریری امتحان پاس کرنیوالے امیدواروں کے پنجاب پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین اور ممبر انٹرویو کرتے ہیں۔ اس میں کامیاب ہونیوالے صوبائی افسروں کو ٹریننگ دی جاتی ہے پھر انٹرن اسسٹنٹ کمشنر تعینات کیا جاتا پھر اسسٹنٹ کمسنر سے ترقی کرتے ہوئے سیکرٹری کے عہدے پر تعینات ہوتے ہیں۔ پنجاب پبلک سروس کمیشن حکام کا کہنا ہے کہ اگر کسی طالب علموں کو کوئی شکایت ہے تو وہ سات روز میں پیپرز کی ری چیکنگ کی درخواست دے سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

پرائیویٹ سکول 2017 والی فیسیں وصول کرے، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے نجی سکولوں کی جانب سے غیر قانونی طور پر فیسوں کے اضافے کو کالعدم قرار…

6 دن

پنجاب حکومت صلاح الدین کے نام پر سکول بنائے گی

صلاح الدین کی پولیس حراست میں ہلاکت پر خاموش رہنے والی پنجاب حکومت اب صوبے میں سکول کا…

2 ہفتے

سبق یاد نہ کرنے کی سزا موت

لاہور میں ایک سکول استاد نے دسویں کلاس کے طالب علم کا سر دیوار پر مار کر موت…

2 ہفتے

نقل بچاؤ مہم ٹاپ ٹرینڈ مگر کیسے۔۔۔۔۔

نقل بچاؤ مہم ٹاپ ٹرینڈ مگر کیسے۔۔۔۔۔ میکسیکو سٹی۔ امتحانات میں نقل دنیا بھر میں ہر جگہ ہوتی…

2 ہفتے
نقل بچاؤ مہم ٹاپ ٹرینڈ مگر کیسے۔۔۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے