بِسمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِيم

18-July-2019

کیا پاکستان سینماز بالی ووڈ کے بغیر نہیں چل سکتے

375 Views 0 4 مہینے
Posted at 13 مارچ-2019

پاکستانی سینماز میں بھارتی فلموں کی پابندی لگنے سے سینما گھروں میں فلم دیکھنے والوں کی تعداد میں آدھے سے بھی زیادہ کی کمی ہوئی ہے۔ جس سے ایک بات صاف ہو رہی ہے کہ پاکستانی سکرینیں بارونق رکھنے کے لیئے لالی ووڈ کو اپنی انڈسٹری بہتر کرنا ہوگی ورنہ ملکی سینما بالی ووڈ کے بغیرنہیں چل سکتا۔
یہ پہلی بار نہیں ہوا جب پاکستان میں بھارتی فلوں پر پابندی عائد کی گئی ہو۔ سب سے پہلے 1965 کی جنگ کے بعد پابندی عائد کی گئی جو 40 سال برقرار رہی۔ یہ پابندی 2005 میں اٹھی۔ اس دوران پاکستان میں سینما تقریبا سنسان تھے جو پہلے کی سکرینیں تھی وہاں تھیٹر یا شادی ہال بن گئے۔ جب پابندی اٹھی تب سکرینوں کی تعداد 30 سے زیادہ نہ تھی۔ مگر پھر بھارتی فلموں کے انے سے اب تعداد 120 سے زائد ہے جب کہ لگ بھگ 100 سینما زیر تعمیر بھی ہیں۔
اب پھر پاکستان میں بھارتی فلموں پر پابندی عائد ہے۔ سینما مالکان کی سنے تو انہیں ایک سال میں کم ازکم 25 فلمیں چاہیے مگر پاکستان میں 10 سے 12 ہی بن پاتی ہیں وہ بھی شائقین کو خاص دلچسپ نہیں لگتی۔ اس انڈسٹری سے بہت سے لوگوں کا روزگار اور کروڈوں روپے کی لاگت جوڑی ہے۔
پاکستان میں بھی بھارتی فلموں کے حوالے سے دوطرح کا موقف ہے ۔ ایک گروپ اس پابندی کو خوش آئند قرار دیتا ہے مگر ملکی انڈسٹری کو بہتر کرنے کو بھی وقت کی ضرورت گردانتے ہیں۔ دوسرے کے مطابق فلم ایک فن ہے اور اداکاروں پر ایسی پابندی نہیں ہونی چاہیے۔ ماضی میں ہمایوں سعید بھی ایسی پابندی کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

جج ویڈیو اسکینڈل پر شہباز شریف اور مریم…

سابق وزیراعظم نواز شریف کو سزا دینے والے احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کی درخواست پر…

6 گھنٹے

ڈاکٹرز نے زخمی کی بجائے ٹھیک ٹانگ کا…

لاہور کے اتفاق ہسپتال میں ڈاکٹرز نے زخمی بائیں ٹانگ کے گھٹنے کی بجائے دائیں ٹانگ کا آپریشن…

9 گھنٹے

کلبھوشن یادیو کون تھا ؟

عالمی عدالت نے کلبھوشن یادیو کو دہشتگرد قرار دیدیا ۔کلبھوشن یادیو ہے کون تھا اور اسے پکڑا کیسے…

11 گھنٹے

ارے عثمان بزدار شہباز شریف پلس بن گے

برسات کا موسم ب سڑکوں پر کھڑا پانی ، عثمان بزدار کی ڈرائیونگ اور گاڑی میں اور لوڈنگ…

11 گھنٹے
عثمان بزدار کی اشیائے خوردونوش طے شدہ قیمتوں پر دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے