بِسمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِيم

24-May-2019

وزیراعلٰی سندھ اور آئی جی میں پھر اختیارات کی جنگ

86 Views 0 3 ہفتے
وزیراعلٰی سندھ اور آئی جی میں پھر اختیارات کی جنگ
Posted at 1 مئی-2019

کراچی۔ جمہوریت میں بلاشبہ تمام تر اختیارات کا مالک وزیراعلٰی اور کابینہ ہوتی ہے مگر کراچی میں امن و امان کی صورتحال پچھلے کئی سالوں سے ابتر ہے جس کی بڑی وجہ محکمہ پولیس میں سیاسی بنیادوں پر بھرتیاں قرار دی جاتی ہے۔ اسی کی وجہ سے امن و امان کی بحالی میں سخت مشکلات کا سامنا تھا۔ سابق آئی جی اے ڈی خواجہ اور وزیر اعلٰی سندھ مراد علی شاہ کے درمیان بھی پولیس میں تبادلوں پر اختیارات کی جنگ چھیڑ گئی تھی۔ تب اے ڈی خواجہ اپنے اختیارات کیلئے ڈٹ گئے تھے۔ پچھلے کئی مہینوں سے آئی جی سندھ کلیم امام اور وزیراعلٰی سندھ کے درمیان بھی اختیارات کی جنگ چھیڑی ہوئی ہے۔ ان کے درمیان سیزفائر بھی ہوا تھا مگر اب پھر دو بڑوں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت آ گئی ہے۔ آئی جی سندھ کلیم امام نے صوبائی حکومت کو انتباہی خط بھی لکھ ڈالا۔

کلیم امام نے اختیارات کی آزادی سلب ہونے پر سندھ حکومت کو انتباہی خط لکھ دیا

سندھ حکومت نے پولیس افسران کے تقرر و تبادلے کا اختیار کس کا ہو، پولیس اختیارات کیلئے مشرف دور کا پولیس آرڈر بحال کرنے کی منظوری دے دی۔ مجوزہ پولیس آرڈر 2002ء کے تحت پولیس افسران کی کارکردگی اور کارروائیوں کو حکومت کا تشکیل کردہ پبلک سیفٹی کمیشن مانیٹر کرے گا اور تقرر و تبادلے بھی حکومت کرے گی۔ پولیس آرڈر 2002ء کا ترمیم مسودہ سندھ اسمبلی کے جاری سیشن میں لایا جائے گا۔ آئی جی سندھ کلیم امام نے اختیارات کی آزادی سلب ہونے پر سندھ حکومت کو انتباہی خط لکھ دیا۔ سیکرٹری داخلہ کے نام خط میں آئی جی کلیم امام نے کہا ہے کہ پولیس کے انتظامی اور آپریشنل اختیارات آئی جی کو حاصل ہیں۔ انہوں نے کابینہ ارکان سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ پولیس کے ورکنگ پیپر کا جائزہ لیں۔ انہوں نے خط میں شکوہ کیا کہ نئے پولیس قانون پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

متعلقہ خبریں

ڈاکٹر طاہر القادری کا معصوم فرشتہ کے بیہمانہ…

لاہور۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ معصوم فرشتہ کیساتھ پیش آنیوالے بیہمانہ واقعہ پر دلی دکھ کا…

12 گھنٹے
ڈاکٹر طاہر القادری کا معصوم فرشتہ کے بیہمانہ قتل پر دکھ کا اظہار

پنجاب پولیس میں پھر سیاسی مداخلت شروع

لاہور۔ پنجاب پولیس میں ایک مرتبہ پھر سیاسی مداخلت شروع ہو گئی ہے۔ پاک پتن واقعہ کے بعد…

15 گھنٹے
ایس ایچ او کی تھانے میں چیخ و پکار کہ یہ میرے ساتھ زیادتی ہے

سول جج کوکرسی مارنے والے وکیل کو پانچ…

لاہور۔ جوڈیشل ایکٹو ازم کی اصطلاح سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کے دور میں سامنے آئی تھی۔ تب…

17 گھنٹے
سول جج کوکرسی مارنے والے وکیل کو پانچ سال قید پر وکلاء سراپا احتجاج

ملزم پولیس کے خوف سے بچی کو چھوڑ…

لاہور۔ والدین کی معمولی کوتاہی والدین کیلئے عمر بھر کا روگ بن جاتی ہے۔ تین سالہ حبا جنت…

18 گھنٹے
ملزم پولیس کے خوف سے بچی کو چھوڑ کر فرار ہوا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے