بِسمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِيم

24-July-2019

ن لیگ کے قائد کی طبی بنیادوں پر سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ سنا دیا

153 Views 0 1 مہینہ
ن لیگ کے قائد کی طبی بنیادوں پر سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ سنا دیا ا
Posted at 20 جون-2019

اسلام آباد۔ مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے طبی بنیادوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپنی سزا کی معطلی کی درخواست دائر کر رکھی تھی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواست کی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ اب اس درخواست پر نواز شریف کی ضمانت پر رہائی مسترد کر دی ہے۔

درخواست ضمانت میں نواز شریف کی بیماری کی وجہ سے سزا معطل کر کے ضمانت پر رہائی کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔ نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث اور نیب پراسیکیوٹر جہانزیب بھروانہ کے دلائل مکمل ہونے کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ جسٹس عامر فاروق اور محسن کیلانی نے نواز شریف کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

چھ ہفتوں کی ضمانت دے کرعلاج کی سہولت دی تھی

نیب پراسیکیوٹر نے اپنے دلائل میں کہا کہ نواز شریف کو چھ ہفتوں کی ضمانت دے کر علاج کی سہولت دی گئی تھی۔ یہ ضمانت محض ٹیسٹ کرانے کیلئے نہیں بلکہ علاج کرانے کیلئے دی گئی تھی۔ وہ ان چھ ہفتوں میں مرضی کا علاج کرا سکتے تھے۔ میڈیکل بورڈز کی رپورٹس گزشتہ سماعت پر بھی عدالت کے سامنے تھیں۔

صرف الرازی ہیلتھ کیئرکی نئی رپورٹ سامنے لائی گئی

نیب پراسیکیوٹر نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ میں دائر ہونیوانی نظرثانی کی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر ہونی چاہئے تھی۔درخواست وہی سپریم کورٹ والی ہے مگر صرف کٹ پیسٹ کے بعد یہاں دائر کی گئی ہے۔ صرف الرازی ہیلتھ کیئر لاہور کی نئی رپورٹ سامنے لائی گئی ہے۔ اس رپورٹ کا ریکارڈ یہ نہیں کہتا کہ نواز شریف کو فوری علاج کی ضرورت ہے۔

اگر ناقابل علاج مرض لگ جائے تو کیا ملزم کو طبی بنیاوں پر ضمانت دی جا سکتی ہے

سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اگر ناقابل علاج مرض لگ جائے تو کیا ملزم کو طبی بنیاوں پر ضمانت دی جا سکتی ہے۔ اس پر نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ بنیادی آئینی حقوق کے تحت ناقابل علاج بیماری لگنے پر ملزم کو رہا کر دینا چاہئے۔ اگر ملزم کو کینسر ہو جائے تو اسے عدالت میں نہی رکھا جا سکتا۔ تاہم خواجہ حارث نے کہا کہ نواز شریف کی کسی رپورٹ میں ایسا نہیں لکھا گیا۔

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ نواز شریف کو ضمانت دیکر بیرون ملک جانے کی اجازت دی جائے۔ اس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ نے بیرون ملک جانے کی کوئی تحریری استدعا نہیں کی۔ ای سی ایل کا معاملہ چھوڑ دیں۔ سزا معطلی پر دلائل دیں۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دئیے کہ سپریم کورٹ نے معیار طے کیا کہ حالت خراب ہو تو ضمانت ہو سکتی ہے۔

یہ بھی ہمیں دیکھنا ہے کہ زندگی بچانی ہے۔ کیا دو تین، یا چار ہفتے طبی بنیادوں پر ضمانت دی جا سکتی ہے۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ جیل میں نوازشریف کا علاج اچھا ہو رہا ہے۔ اس پر جسٹس محسن کیلانی نے کہا کہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جیل میں علاج اچھا ہے اور باہر ٹھیک نہیں۔ فیصلہ محفوظ کرنے کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے طبی بنیادوں پر نواز شریف کی درخواست ضمانت مسترد کر دی۔

متعلقہ خبریں

لاہور میں 19 سالہ ملازمہ کا بے رحمی…

لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن سے اغواء ہونے والی 19 سالہ گھریلو ملازمہ بازیاب نہ کرائی جا سکی…

9 گھنٹے

جیل سے اے سی، ٹی وی ہٹانے کی…

مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے امریکہ میں اتحاد…

10 گھنٹے
وزیراعظم عمران خان کا کیپٹل ارینا ون میں امریکی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ

وعدہ خلافی کرنے پر لڑکی نے لڑکے کا…

لاہور کے قریب رائے ونڈ میں ایک خاتون نے شادی سے انکار پر نوجوان کو گولیاں مار دی…

13 گھنٹے

سینیٹ کا اجلاس شروع ہونے کے کچھ منٹوں…

اسلام آباد۔ سب سے بڑا قانون ساز ادارہ سینیٹ کا اجلاس آج شروع ہونے کے کچھ ہی دیر…

17 گھنٹے
سینیٹ کا اجلاس شروع ہونے کے کچھ منٹوں بعد ہی ملتوی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے