بِسمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِيم

24-July-2019

کاش یہ پٹی انضمام کی آنکھوں پر ہوتی

230 Views 0 2 مہینے
Posted at 21 مئی-2019

تحریر مستنیرہ کرن خان

یہ 18 اپریل کی بات ہے جب چیف سلیکٹر انضمام الحق دورہ انگلینڈ کے لیے سترہ رکنی سکواڈ کا اعلان کر رہے تھے۔ صحافیوں کی جانب سے ورلڈ کپ میں وہاب ریاض اور محمد عامر کو شامل نہ کرنے پر سوال اٹھے۔ وہاب ریاض پر چیف سلیکٹر انضمام الحق نے کہا کہ کہ انہوں نے آخری میچ دو سال پہلے کھیلا ہے دو برسوں سے وہاب ریاض ان کے پلان کا حصہ نہیں رہے تو ورلڈ کپ میں کیسے شامل کریں

محمد عامر پر بولے کہ انگلینڈ کے خلاف ایک ٹی ٹوئنٹی اور پانچ ون ڈے میچز ہیں اگر پرفارمنس دکھائی تو ورلڈ کپ کھیلیں گے ورنہ گھر میں ٹی وی پر میچ دیکھیں۔ کیونکہ لگاتار دس میچز میں محمد عامر ناکام ثابت ہوئے تھے جس میں انہوں نے محض تین وکٹیں حاصل کی تھیں

تصویر کرک انفو

دو روز بعد مکی آرتھر نے پریس کانفرنس میں کہا کہ وہاب ریاض نے گزشتہ دو برسوں سے پاکستان کو ایک بھی میچ میں جیت نہیں دلائی اس لیے ٹیم میں شامل نہیں ہوسکتے۔

ٹھیک ایک ماہ بعد یعنی 20 مئی کو وہی چیف سلیکٹر انضمام الحق وہاب ریاض اور محمد عامر کو ٹیم میں شامل کرتے ہیں۔ اس بار منطق سنیں گے تو جنید خان کی طرح آپ آنکھوں پر نہیں تو کانوں پر ٹیپ ضرور لگائے گے

انضمام الحق کا یو ٹرن

انضمام الحق کہتے ہیں کہ وہاب ریاض سینئر باؤلر ہیں انگلینڈ کے خلاف پانچ میچز کے بعد پتہ لگا کہ وہاں سیمر کی نہیں ریورس سوئنگ کرنے والے باولر کی ضرورت ہے۔ اور وہاب ریاض ریورس سوئنگ کے ماسٹر ہیں۔ مگر محمد عامر تو ایک میچ بھی نہیں کھیل پائے پھر انہیں ورلڈ کپ سکواڈ میں کیوں جگہ دیں تو انضمام الحق صاحب فرماتے ہیں کہ وہ بھی سینئر کھلاڑی ہیں

جنید خان نے احتجاجاً جو پٹی باندھی وہ ٹھیک یا غلط اس کا فیصلہ آپ نے کرنا ہے مگر پہلے دورہ انگلینڈ میں پاکستانی فاسٹ بولرز کی کارکردگی کو پرکھ لیجئے۔ ٹیم میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے حسن علی نے چار میچز میں محض تین وکٹیں حاصل کیں۔ جنید خان نے دو میچز کھیلے تھے اور دو وکٹیں اڑائی۔ شاہین شاہ آفریدی بہتر کارکردگی دکھا سکے تھے انہوں نے تین میچز میں 5 گورے کھلاڑیوں کو گھر کی راہ دکھائیں۔ اب اگر سینئیارٹی ہی بڑی وجہ ہے تو جنید خان حسن علی سے زیادہ تجربہ کار باولر ہیں اور کارکردگی دونوں کی ایک سی ہے پھر چھری جنید خان پر کیوں چلی

فائل فوٹو

عابد علی کی غلطی تو بتا دے

خیر سب جنید خان کی بات کر رہے ہیں کیونکہ وہ اپنے حق کے لیے بولے مگر بیچارے عابد علی کو سب بھول چکے ہیں ورلڈکپ میں محض ایک میچ کی کارکردگی پر ٹیم سے ڈراپ کردیا گیا اور جواب میں انضمام الحق صرف اتنا بولے کہ یہ ایک سخت فیصلہ تھا۔ مگر انضمام صاحب اگر ورلڈ کپ 1992 میں ایک میچ کی کارکردگی پر آپ کو ڈراپ کردیا جاتا تو شاید آج کپتان انضمام الحق نہ کہلاتے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ اس وقت ٹیم میں سرفراز کے علاوہ کوئی بھی وکٹ کیپنگ نہیں کرسکتا کسی میں یہ خوبی تھی تو وہ عابد علی تھے

خبر یہ ہے کہ پی سی بی نے سینٹرل کنٹریکٹ کی تلوار سے جنید خان سے منہ پر ٹیپ لگائی تصویر ہٹا لی۔ مگر اپنے چیف سلیکٹر انضمام الحق کو اتنا نہیں کہا کہ وہ یہ پٹی اپنی آنکھوں پر لگاتے تو شاید انصاف ہوجاتا

متعلقہ خبریں

چار رکنی قومی ہاکی سلیکشن کمیٹی کا اعلان

لاہور۔ قومی کھیل ہاکی ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں اس کے تن مردہ میں جان ڈالنے…

17 گھنٹے
چار رکنی قومی ہاکی سلیکشن کمیٹی کا اعلان

مانی آئی سی سی فنانشل اینڈ افیئرز کمیٹی…

لندن۔ چیئرمین پی سی بی احسان مانی آئی سی سی فنانشل اینڈ کمرشل افیئرز کمیٹی کے سربراہ ہوں…

18 گھنٹے
مانی آئی سی سی فنانشل اینڈ کمیٹی افیئرز کمیٹی سربراہ ہوں گے

قومی ہاکی چیمپئن شپ میں شریک ٹیمیں خوار…

قومی ہاکی چیمپئن شپ کے انتظامات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ملکی سطح…

19 گھنٹے
قومی ہاکی چیمپئن شپ میں شریک ٹیمیں خوار ہو گئیں

پی سی بی اور سری لنکا کرکٹ بورڈ…

لاہور۔ 2007ء میں سری لنکا کے دورہ پاکستان کے آخری لاہور ٹیسٹ میں قذافی سٹیڈیم آتے ہوئے سری…

2 دن
پی سی بی اور سری لنکا کرکٹ بورڈ کے درمیان رابطہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے